1 اپریل 2013 - 19:30

میانمار میں روہنگيا مسلمانوں کی قومی تنظیم کے سربراہ نورالاسلام نے کہا ہے کہ روہنگيا مسلمانوں کے خلاف تشدد انہیں آوارہ وطن کرنے کا جرم ہے جس کا جائزہ عالمی اداروں میں لیا جانا چاہیے۔

ابنا:  میانمار کے روہنگیا مسلمانوں کی قومی تنظیم کے سربراہ نور الاسلام نے پریس ٹی وی سے گفتگو میں روہنگيا مسلمانوں کی بپتا پر عالمی برادری کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات بڑی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ روہنگيا مسلمانون کی حفاظت کی ذمہ داری عالمی برادری کی ہے لہذا یہ بات  ہرگز قابل قبول نہیں ہے کہ عالمی برادری ہمارے بارے میں کوئي اقدام نہ کرے۔ انہوں نے کہا روہنگيا مسلمانوں کا مستقبل تاريک ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میانمار روہنگيا مسلمانوں کا وطن ہے اور وہ اپنے اباء و اجداد کی سرزمیں نہیں چھوڑسکتے۔ قابل ذکرہے کئي مہنیوں سے میانمار میں مسلمانوں کے خلاف تشدد جاری ہے اور انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہےکہ حکومت بھی اس تشدد میں شریک ہے۔ حکومت روہنگيا مسلمانوں کو میانمار کا شہری نہیں سمجھتی اور ان کے خلاف تشدد کو ہوا دے کر انہیں ترک وطن پر مجبور کرنا چاہتی ہے۔ ادھر ہیومن رائٹس واچ نے ایک بیان میں میانمار کی حکومت سے مطالبہ کیا ہےکہ مسلمانوں کے خلاف جاری تشدد کی روک تھام کرکے تشدد میں ملوث افراد کو قرارواقعی سزادے۔ہیومن رائٹس واچ کے بیان میں آیا ہے کہ میانمار کی سکیوریٹی فورسس فسادات کی خاموش تماشائي بنی رہیں اور انہوں نے فسادیوں کے خلاف کوئي اقدام نہیں کیا۔ اس بیان میں آیا ہےکہ میانمار میں انتھا پسند بودھسٹوں نے ایک سو ترسٹھ مرتبہ مسلمانوں پرحملے کئے ہیں اور پندرہ شہروں میں مسلمانون کو تشدد کا نشانہ بنایا گيا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/242